Wednesday, December 12, 2018
Home > Uncategorized > نہاتے وقت ٹب میں تھوڑی سی یہ چیز ڈالیں اور وزن گھٹائیں

نہاتے وقت ٹب میں تھوڑی سی یہ چیز ڈالیں اور وزن گھٹائیں

نہاتے وقت

نہاتے وقت ٹب میں تھوڑی سی یہ چیز ڈالیں اور وزن گھٹائیں۔

معلومات ڈیسک(آوازپوائنٹ): اگر آپ بڑھتے وزن سے پریشان ہیں تو نہاتے وقت ٹب میں تھوڑی سی یہ چیز ڈالیں اور وزن گھٹائیں ۔

اگر آپ بڑھتے ہوئے وزن کے لئے ادویات سے اجتناب کرنا چاہتے ہیں اور کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں جس میں آپ کو کوئی دوائی نہ کھانی پڑے تو ایپسام نمک میں نہا کر یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے

اس نمک کا سائنسی نام میگنیشیم سلفیٹ ہیپاٹائی ہائیڈریٹ ہے اور یہ صحت کے کئی مسائل کے حل کے لئے مفید پایا گیا ہے

آئیے آپکو اس نمک کے چند اہم ترین فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کافی کا استعمال کرنے والے کم بیمار اور لمبی عمر پاتے ہیں ، ماہرین

پٹھوں کی سوزش میں کمی
*کھچے ہوئے پٹھوں کو نارمل کرنا
*سوکھے ہونٹوں کو تر کرنا
*جسم کو ہلکا پھلکا کرناجس سے پرسکون نیند آتی ہے
*کیڑے مکوڑوں اور شہد کی مکھی کاٹنے کی صورت میں ٹھیک کرتا ہے

یونیورسٹی آف برمنگھم کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب ہم اس نمک سے نہاتے ہیں تو اس میں موجود میگنیشیم اورسلفیٹ جلد کے راستے ہمارے جسم میں جذب ہوتے ہیں۔

یہ دونوں نمکیات خون میں جذب ہوکر جسم سے وہ تمام زہریلے مادے نکال دیتی ہیں جو بیرونی ماحول سے ہمارے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔ہمارے جسم میں میگنیشیم کی کمی سے دل کے مسائل ، بلڈ پریشر،سر درد اور کمر کادردپیدا ہوتا ہے۔ہمارے جسم میں سلفیٹ کی کمی سے تھکاوٹ ہوتی ہے اور اگر یہ دونوں نمکیات کی مقدار ہمارے جسم میں درست رہے تو میٹابولزم ٹھیک کام کرتا ہے اورہماراوزن کم ہونے لگتا ہے۔

یک کھانے کا چمچ ایپسام نمک پانی میں ڈالیں، نمک کی مقدار روزانہ بڑھاتے جائیں۔
*اب اس ٹب میں 20منٹ تک بیٹھے رہیں۔(20منٹ سے زائد ہرگز پانی میں نہ رہیں)
*یاد رہے کہ آپ کو اپنا تمام جسم اس پانی میں ڈبونا ہے۔
*یہ باتھ ہفتے میں دو سے تین بار تک لیا جاسکتا ہے۔
*حاملہ خواتین یہ باتھ نہ لیں جبکہ دل کے مریض،گردوں کی بیماری کا شکار لوگ اور ذیابیطس کے مریض یہ باتھ نہ لیں۔

یاد رہے کہ اس نمک سے 2 سے 3 دفعہ ہفتے میں نہا لینا مفید ہے اس  سے زیادہ نہانے سے اجتناب کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *