Tuesday, December 18, 2018
Home > کالم > فاٹا بنے گا پاکستان ،،،،،،،؟

فاٹا بنے گا پاکستان ،،،،،،،؟

فاٹا

فاٹا بنے گا پاکستان ،،،،،،،؟
پاکستان کی سر زمین پر کچھ رقبے ایسے بھی ہین جو بے آئین و قانون ،، قانون بقائے جبر کے تحت ہانکے جا رہے ہیں ، نظام زندگی تو خیر چل ہی رہا ہے لیکن کالے قوانین کے مرہون منت ہے ،،،، جیسا کہ فاٹا۔ ایک ایف سی آر کے مرہون منت،، فرنٹیر کرائم ریگولیشن ۔ اور یہ ایف سی آر کس حد تک قبائلی دوست قانون ہے اس بارے میں زیادہ تشویش کی ضرورت نہیں ،، یقینی طور پر ایک کالا قانون ہے انسان کش ہے۔
آپریشن ضرب عضب کی کامیاب گرداننے کے بعد سرکار اور فوج کی جانب سے سرتاج عزیز کی نگرانی میں فاٹا اصالاحات کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے مطابق ،،،،، سرتاج عزیز نے ازخود قبائلی علاقوں کا دورہ کیا ، اور قبائیلیوں کی آرا و امنگوں سے خوب آگاہ بھی ہوئے ، اور یہ بھی کہا کہ فاٹا کے لوگ پاکستان کے آئینی شہری بننا چاہتے ہیں ،، ،،،،، بحرحال کافی عرق ریزی کے بعد ایف سی آر کے قانون کے خاتمے کے لئے ایک بل اسمبلی میں پیش بھی ہوا لیکن تنقید کے بعد اسے واپس لے لیا گیا
فاٹا اصلاحات سے متعلق قبائلی علاقوں کی قیادت بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ، حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی بڑی حامی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس معاملے میں حکومت کے نقطہ نظر کے شدید مخالف ہیں جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی حکومتی نقطہ نظر کی شدید مخالفت کر رہے ہیں ، جبکہ صوبے کی موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور سابقہ صوبائی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی یہ دونوں جماعتیں قبائل کی پختونخواہ میں ضم ہونے کے حق میں ہیں ۔
اس ساری صورتحال میں سب سے بڑی مخالفت مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کی جانب سے ہی سامنے آئی ہے ، تا ہم گزشتہ ہفتہ فاٹا اصلاحات سے متعلق بل ایوان کے ایجنڈے سے نکالے جانے پر اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی سمیت پاکستان تحریک انصاف جماعت اسلامی اور فاٹا اراکین نے اجالس سے احتجاجی طور پر بائیکاٹ کیا بعد ازاں اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا
اسی تسلسل میں جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ کی جانب سے باب خیبر سے اسلام آباد کی جانب ا حتجاجی لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا اتوار کو شروع ہونے والا یہ مارچ ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی جلسے کے بعد ختم ہوا ، جلسے سے خطاب میں ا،یر جماعت اسلامی نے شدید الفاظ میں فاٹا اصلاحات میں تاخیری حربوں کی مزمت کی اور حکومت کوڈیڈ لائین دیتے ہوئے ۱۳ دسمبر تک کا وقت دیا اور کہا کہ اس کے بعد ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد میں مستقل بنیادوں پر دھرنا دیا جائے گ ا،،، اب ان کا یہ اعلان کس قدر موثر ہوگا یہ تو ۳۱ دسمبر کے بعد ہی معلوم پڑے گا ۔۔
اس ساری صورتحال کے بعد گزشتہ روز پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے فاٹا کی قانونی حثیت پر ۱۹۴۷ کے ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۴۷ کے ایکٹ کی رو سے فاٹا پاکستان کا حصہ نہین ہے فاٹا کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے اس پر افغانساتان معترض ہو سکتا ہے ،،، جبکہ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات بھی اپنے ہی ہیں،،،، اس ساری صورتحال میںجو بے نامی کی زندگی بسر کر رہے وہ از خود قبائلی عوام ہیں،، ان قبائلی علاقوں کے نمائیندگان کچھ تو ذاتی مفادات میں الجھے نظر آتے ہیں اور کچھ تو فاٹا کے تاریخی پس منظر کے باعث اس کا الحاق نہیں چاہ رہے ،، اس ملی جلی کیفیت مین کیا نتائج بر اامد ہو سکتے ہین ، بلاشبہ فاٹا قبائل ، افغانستان مین موجودقبائل سے خونی رشتوں میں بھی منسلک ہیں ، اور یہاں یہ مملکت پاکستان کا حصہ ہوگئے تو کیا وہاں سے احتجاج نہ اٹھے گا،، یقینی طور پر اٹھے گا ۔ تو یہی کہ دیا جائے گا کہ یہ آپ کا معاملہ ہے نہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ مسلہ پاکستان کا ہے اس کی سر زمین کے بسنے والے قبائل کا ہی ہے ،،، مگر اس جواب میں بھی ان کے لئے آسودگی ہر گز نہیں ،،، خون تو آخر ایک ہی ہے ،،،،،،، تو پھر رویا کیسے جائے انگریزوں کی دی ہوئی حثیت کو ،، کہ جنہوں نے فاٹاکے لوگوں کو اپنے دور میںآزاد لوگ قرار دے کر ہمیشہ کے لئے ایک متنازعہ تاثر قایم کر دیا ،، خون تو تقسیم ہونے سے رہا،،،، اور قیام ہپاکستان کے بعد ڈیورینڈ لائین قایم کر کے ہمیشہ کے لئے بے نامی کا سرٹیفئیکیٹ قبائلیوں کے گلے ڈال دیا، اب ڈیورینڈ لاین کے علاویہ بھی تو کوئی صورتحال تھی نہیں جو مملکت پاکستان کی سر حدوں کو الگ کرتی ،، پھر ان قبایل کا کیا کیا جاتا،، ان کو بھی تو آخر انصاف درکار تھا ،، ریاست پاکستان کے قیام کے حصول میں ان کے ااباو اجداد بھی کٹے ،،،، اب جب دو الگ الگ ملک موجود ہیں تو ضروری ہے کہ دونوں اپنی سرزمین پر بسنے والوں کو بنیادی حقوق سمیت انصاف کی بالادستی تک کے حقوق دئے جائیں ، فاٹا کے عوام کو کالے قوانین سے نجات بخشی جائے ،،، البتہ لانگ مارچ کے شرکا نے خوب نعرے لگائے کہ،،،
ایف سی آر پر لعنت بے شمار،،،،،،،
فاٹا بنے گا پختونخواہ،،، فاٹا بنے گا پاکستان،،،

نوٹ: ادارے کا کسی بھی کالم نگار کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ یہ لکھنے والی کی زاتی رائے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *