Monday, October 22, 2018
Home > کالم > شام میں جاری خانہ جنگی اور عالم اسلام کی بے حسی

شام میں جاری خانہ جنگی اور عالم اسلام کی بے حسی

شام جل رہا ہے۔۔۔۔
تحریر ( سرمد احمد):قیامت سے قبل ایک اہم ترین نشانی امام مہدی علیہ سلام کا دنیا میں ظہور ہے۔حضور ﷺ نے امام مہدی علیہ سلام کے ظہور سے قبل مشرق وسطی یعنی (مڈل ایسٹ) میں رونما ہونے والے چند اہم ترین واقعات کی نشاندہی کی ہے کہ اس دوران مذہبی فرقہ واریت اور فطنے عروج پر ہوں گے۔احادیث مبارک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ملک سے فطنے ختم ہوں گے تو دوسرے اسلامی ملک میں اس کا آغاز ہو جائے گا۔
عرب ممالک میں ملک شام قیامت سے قبل تاریخی اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔آپﷺ کی احادیث کے مطابق ملک شام میں سے فطنوں کا آغاز ہو گا جہاں سے کالے جھنڈوں والے سپاہیوں کی فوج نکلے گی۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے شام کی تباہی اہل عرب کی تباہی ہے اور آج وہ وقت آ گیا ہے کہ ملک شام کے بے بس اور لاچار والدین اپنے بچوں کو گود میں چپھائے فزائی حملوں سے بچا رہے ہیں۔ملک شام کے بے بس اور لاچار عوام کی چیخ و پکار پورا عالم اسلام سن رہا ہے مگر سب کی زبانوں کو تالے لگ چکے ہیں اور عالم اسلام خاموشی سے بیٹھ کر محض تماشہ دیکھ رہے ہیں۔تمام دجالی قوتیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ ملک شام پر ٹوٹ پڑی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کی اللہ پاک نے ملک شام کو بے پناہ فضائل اور خصوصیات عطا کی ہیں۔نبی پاک ﷺ کے فرمان کے مطابق اسلام کے عروج و زوال کے بنیاد ملک شام سے پڑے گی۔یہاں سے ہی مسلمانوں کا وہ لشکر منعظم ہو گا جس کا مقابلہ کوئی دجالی طاقت نہیں کر پائے گی۔لہذا یہ دجالی قوتیں ایسی کوشش میں مصروف ہیں کہ ملک شام کو تقسیم،تباہ اور مفلوج کر دیں تاکہ یہ کبھی میں مسلمانوں کی قوت کا باعث نہ بن سکیں۔ملک شام میں حلب سے لے کر غوطہ تک کفار کی خوفناک بمباری جاری ہے جس میں لاکھوں شامی مسلمان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
شام میں ظلم اور بربریت کا باقاعدہ آغاز 2011 میں ہوا جب شام کی باشعور عوام نے صدر بشارالاسد کی ناکام حکومتی پالیسیوں کی خلاف احتجاج کیا۔اس احتجاج کے سلسلے میں صدر بشارالسد نے شامی عوام پر بدترین تشدد کروایا۔اپنی ہی فوج سے صدر بشارالسد شام کی عوام پر کیمیائی حملے کرواے جس میں لاکھوں مسلمان جان کی بازی ہار گئے۔شامی صدر بشارالسد نے اس بات کا یقین دلوایا کہ دوبارہ ایسا کبھی نہیں ہو گا مگر جس انسان کے منہ کو خون لگ چکا ہووہ بھلا کیسے بعض آنے والا تھا لہذا شام کی عوام پر ظلم کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔شام کا یہ مسلہ کسی دو گروپوں کی لڑائی نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی طاقتیں موجود ہیں جو ان سب کی پشت پناہی کررہی ہیں۔ اسرائیلی ریاست کا قیام اور یورو شیما پر پہلے ہی قبضہ ہو چکا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہودی شام پر قبضہ کر کے اس کو پھر سے(گریٹر اسرائیل) بنانے کا خواب دیکھ رہیں ہیں۔
ملک شام میں جاری خانہ جنگی میں صدر بشارالسد کا ساتھ روس اور ایران دے رہیں ہیں۔روسی جہاز دن رات (ایر اسٹرائیک)کرکہ شامی عوام اور ملک شام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر روس شامی صدر بشار السد کی پشت پناہی کیوں کر رہا ہے؟روس کا آخر اس میں کیا مفاد ہے؟روس یقینا؍ً سرزمین شام کو تختہ دار بنا کر اپنے نئے ہتیاروں کی مشقیں کر رہا ہے اور تیسری جنگ عظیم سے قبل اپنے جنگی ہتیاروں کی تباہی کو دکھا کر امریکہ اور پوری دنیا پر اپنی جنگی برتری کا خوف بیٹھانا چاہتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دسمبر تک 4 لاکھ افراد حملوں میں جبکہ 6 لاکھ سے زائد قیدی تشدد سے شہید ہو چکے ہیں۔ایک اور رپورٹ کے مطابق بشارالسد کی جیلوں میں 3 ہزار بے گناہ افراد کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا ہے۔شام کی بے گناہ عوام پر مظالم کا نظارہ یقیناً سوشل میڈیا پر بھی جاری ہے مگر پاکستانی میڈیا ان مظالم پر پردہ ڈال کر کبھی سری دیوی کی موت کی خبریں چلانے میں مصروف دیکھائی دیتا ہے تو کبھی سونم کپور کی شادی کی خبریں پاکستانی میڈیا کی زینت بنی دیکھائی دیتی ہیں کیونکہ ایسی خبریں پاکستانی میڈیا کےلیئے زیادہ اہم اور منافع بخش ہیں۔
صرف پاکستان ہی نہیں پورا عالم اسلام ہی مخلص قیادت سے محروم نظر آتا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ زیادہ تر مسلم حکمران بے حس ہو چکے ہیں۔ان مسلم حکمرانوں کو صرف ڈالر کی چمک نظر آتی ہے اور لگتا ایسے ہے کہ یہ مسلم حکمران دجالی قوتوں کی کٹ پتلیاں بن چکی ہیں اور صرف اتنا بولتے ہیں جتنا ان کے امریکی آقا کہیں۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کی مطابق شام کی مظالم کی انتہاہ اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ایک روٹی کے حصول کے لیئے عورتٖیں اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
انتہائی شرم کا مقام یہ ہے کہ کلمے کو ماننے والے ہمارے شامی اسلامی بھائی آج عالم اسلام سے مدد کی بھیگ مانگ رہے ہیں، مگر شاید عالم اسلام کے حکمرانوں کو ڈالر کی چمک نے بے حسی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ایسے میں شاید ترکی وہ واحد اسلامی ملک ہے جو ملک شام کی عوام کی بھرپور مدد کر رہا ہے اور کئی شامی مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ بھی دے چکا ہے۔شامی عوام اس بات کے منتظر دیکھائی دیتے ہیں کے وہ وقت آئے کے ترکی سمیت تمام عالم اسلام ملک شام کی بھرپور مدد کو نکلے تاکہ سب مل کر دجالی قوتوں کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔

نوٹ: ادارے کا کسی بھی کالم نگار کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ یہ لکھنے والی کی زاتی رائے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *