Monday, October 22, 2018
Home > کالم > پاک فوج اور ہم

پاک فوج اور ہم

پاک فوج اور ہم:

:پاک فوج اور ہم

تحریر (سرمد احمد):فوج کا کام سرحد پر رہ کر ملک عظیم کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ اعوانوں میں بیٹھ کر ملکی معاملات میں دخل اندازی کرنا ہے۔یہ بات درست مگر پاک فوج کے خلاف ایک پراپوگنڈا جو کہ لمبے عرصے سے ہم اکثر سنتے ہیں اور لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ پاک فوج ملک کا 80٪ فیصد بجٹ کھا جاتی ہے ۔آئیں کچھ دلچسپ حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔ہمارے لیئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس بار کل 42 ارب ڈالر کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں سے پاک فوج کا حصہ 6.8 ارب ڈالر ہے ۔یہ حصہ تقریبا 15٪ بنتا ہے ۔ایک اور اہم بات جو پاکستانی عوام کے لیئے جاننا انتہائی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ پاک فوج دنیا میں کم ترین پیسے لینے والی افواج میں سے ایک ہے۔
بدقسمتی یا خوش قسمتی سے پاکستان اپنی ایک مخصوص اسلامک آئیڈیالوجی اور نہایت اہم سٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ دشمن رکھنے والا ملک ہے ۔ پاکستان کے وجود کو ختم کرنا یا کم از کم اسکی دفاعی طاقت کو توڑنا
اس وقت دنیا کے چند طاقتور ترین ممالک کا مشترکہ ایجنڈا اور مفاد ہے ،جن میں انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل سرفہرست ہیں ۔اور پھر انکے اتحادی یعنی نیٹو اور افغانستان جیسے مسلم ممالک کا ایجنڈا بھی شاید پاکستان کی دفاعی طاقت کو شدید نقصان پہنچاناہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی 3600 کلومیٹر سرحد جنگی لحاظ سے ایکٹیو ہے جو پاکستان کو دنیا میں سب سے بڑی جنگی ایکٹیو سرحد رکھنے والا ملک بناتی ہے ۔
بات اگر پاکستان کے اندرونی حالات کی جائے تو پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان جسکا کل رقبہ تقریباً آدھے پاکستان کے برابر ہے ۔یہ صوبہ حالت جنگ سے گزر رہا ہے ۔پاک فوج صوبے میں امن لانے میں کچھ حد تک کامیاب ضرور ہوئی ہے مگر ابھی دشمن کے ایجنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹریٹیجک لوکیشن کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔کراچی جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے حالت جنگ میں ہے اور وہاں دہشت گردوں کے خلاف ایک مستقل آپریشن جاری ہے ۔ پاک فوج،رینجرز اور پولیس کی سر تڑ کوششوں سے کراچی دوبارہ روشنیوں کا شہر بن رہا ہے ۔پاکستان کے شمال میں واقعہ پورا قبائیلی علاقہ جو جنگی لحاظ سے دنیا کا مشکل ترین خطہ سمجھا جاتا ہے پوری طرح حالت جنگ میں ہے اور وہاں ہماری کم از کم ڈھائی لاکھ آرمی دہشت گردوں سے برسرپیکار ہے ۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی ضروریات کس نوعیت کی ہونی چاہئیں ؟اس سوال کا جواب حاصل کرنا مشکل تو نہیں،لیکن!حیران کن طور پر دنیا کی پانچویں بڑی آرمی(پاک فوج )اخرجات کے لحاظ سے دنیا میں پچسویں نمبر پر ہے ۔جبکہ پاکستان کا بہت بڑا ایٹمی اور میزائل پروگرام بھی ان اخراجات کا حصہ ہے ۔
انڈیا کے دفاعی اخراجات پاکستان سے 8 گنا زیادہ ہیں ۔پاکستان کے 6.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں انڈیا کے دفاعی اخرجات 50 ارب ڈالر زیادہ ہیں اور اس میں بھی نریندر مودی آئے دن مزید اضافہ کررہا ہے۔روس ہو یا اسرائیل امریکہ ہو ہا انڈیا تمام ممالک کے دفاعی اخرجات پاکستان کے دفاعی اخرجات ے کئی گناہ زیادہ ہیں ۔بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہونگے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت کولمبیا، سنگاپور ، تائیوان ، چلی اور ناروے جیسے ممالک کے ملٹری اخراجات بھی پاکستان سے زیادہ ہیں ۔
پاکستان کے بے پناہ وسائل کا استحصال کرنے والے اور بے انتہا لوٹ مار کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دینے والے اکثر سیاست دان پاکستان کے تمام مسائل کا حل یہ سمجھتے ہیں کہ ؛” دفاعی اخراجات کم کریں” ۔مذکورہ ممالک میں سے کوئی ایک بھی اپنے دفاع پر سمجھوتہ نہیں کرتا نہ وہاں دفاعی اخراجات کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے ۔حالانکہ ان میں سے کئی ممالک ایسے ہیں جن کو کہیں کسی بھی جنگ کا سامنا نہیں ۔
ان سارے حقائق کو سمجھنے کے بعد یہ سوال دماغ میں ضرور اٹھتا ہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر اعتراضات کرنے والے لوگ کون ہیں ؟نادان دوست یا دانا دشمن ؟ بدقسمتی سے پاکستان کے دشمن ہمارے اپنے سیاستدان بنے ہوئے ہیں جو یہودیوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور پاک فوج کے خلاف منفی پراپوگنڈا کرنے میں پیش پیش ہیں ۔
نوٹ: ادارے کا کسی بھی کالم نگار کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ یہ لکھنے والی کی زاتی رائے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *