Monday, October 22, 2018
Home > کالم > پاکستانی قوم متوجہ ہوں؟

پاکستانی قوم متوجہ ہوں؟

پاکستانی قوم

پاکستانی قوم متوجہ ہوں؟

تحریر (سرمد احمد):توقع کے عین مطابق عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔یہ پاکستان کی بھارت سے سفارتی محاذ پر ایک بڑی شکست ہے۔کشن گنگا ڈیم کی تعمیر 2009 میں شروع ہوئی جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ن لیگ مضبوط اپوزیشن تھی۔2011 کے بعد دو سال تک یہ کیس عالمی عدالت میں چلتا رہا لیکن بالآخر عالمی ثالثی عدالت نے نہ صر ف پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دیے بلکہ بھارت کو پانی کا رخ موڑنے کی اجازت دے ڈالی۔یاد رہے کہ یہ وہ دور تھا جب بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جارہا تھا اور خارجہ امور کا قلمدان بھی میاں نواز شریف کے پاس تھا۔بھارت نوازی کی داستان صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ تحقیق سے پتہ چلتا ہےکہ انڈیا نے ڈیم بنا کر دریائے سندھ کا سارا پانی بھی روک لیا ہے۔ متنازعہ پن بجلی کے منصوبے( نیموباز گو )کے خلاف بھی وزیر اعظم صاحب کے احکامات کے مطابق عالمی عدالت میں جانے سے روک دیا گیا تھا کہ “خوامخواہ اس کیس پر وقت ضائع ہوگا”۔بھارت نے یہ منصوبہ مکمل کر لیا ، یہی نہیں اس دوران “چٹک” کا منصوبہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اور کیا خوب بات ہے کہ پاکستانی حکمران صرف بھارت سے اچھے تعلقات قائم کے خواب دیکھتے رہے۔

میں عموماً سیاسی شخصیات پر تنقید سے اجتناب کرتا ہوں لیکن گزشتہ ایک دہائی میں زراعت اور آبی وسائل کی زبوں حالی کو دیکھ کر خون کھول اٹھتا ہے۔مسلم لیگ( ن) کی ذمہ داریوں کا یہاں سے اندازہ کر لیں کہ اس دور میں بھارت صرف دریائے سندھ پر چودہ چھوٹے ڈیم اور دو بڑے ڈیم مکمل کر چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خالی پڑا ہے جبکہ تربیلا ڈیم بھی اس وقت بارش کا محتاج ہے۔یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، پانی کے حوالہ سے ہمارا مستقبل بہت دردناک ہے، دو سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے محتاج کر دے گا اور وہ اس پر عمل کر رہا ہے۔ بھارت دریائے چناب پر سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم سمیت چھوٹے بڑے 11ڈیم مکمل کر چکا ہے ۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور ربڑ ڈیم سمیت 52ڈیم بنا رہا ہےدریائے چناب پر مزید24ڈیموں کی تعمیر جاری ہے اسی طرح آگے چل کر مزید190ڈیم فزیبلٹی رپورٹس ، لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسس میں ہیں۔

یہ سب کچھ ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، لیکن کسی کو اس سے غرض نہیں، کوئی نیا پاکستان بنانے کے زعم میں ہے، کوئی ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، کوئی مذہب پر سیاست کر رہا ہے تو کوئی محض کرسی کے لیے اس گیم کا حصہ ہے۔اگر یہ مسئلہ کسی پارٹی کے منشور میں شامل نہیں ہے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔شاید افسوس کے ساتھ لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ عوام کے ووٹ دینے کے معیار نالیاں پکی کرنا، قیمے والا نان یا نام نہاد نمائشی سکیمیں ہیں، دراصل ہم عوام ذہنی غلام بن چکے ہیں جن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان کے سیاسی خداؤں کے تابع ہیں۔اگر مجھ جیسے کم علم کو یہ حقائق ملکی مستقبل کے لیے فکر مند کرسکتے ہیں تو ہمارے نام نہاد دانشور اور میڈیا ہاؤسز کیوں ان موضوعات پر بات نہیں کرتے؟کیوں کہ ہم بطورِ عوام ان موضوعات پر بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔مجھے سیاستدانوں سے گلہ نہیں کیوں کہ ان کی جائیدادیں پاکستان سے باہر ہیں، خدانخواستہ پاکستان پر کوئی آنچ آئی تو وہ اسے چھوڑ کر باہر بھاگنے میں دیر نہیں کریں گے۔مجھے شکوہ عام لوگوں سے ہے جنہوں نے یہاں رہنا ہے، خدا وہ دن نہ دکھائے جب پانی کے گھونٹ کے لیے ایک بھائی دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہو۔
یہ مسلہ بہت سنگین ہے جسکا ہمیں اندازہ نہیں جس کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی 2025 تک پانی کی اس قدر قلت ہو جائے گی کہ آپ کی فصلوں کو پانی نہیں ملے گا اور پینے کا پانی تک آسانی سے دستیاب نہیں ہوگا۔
یہ سیاست دان ہم پر یہ ظلم کرنے چلے ھیں اور یاد رکھیے ظلم کرنے والا اور چپ کر کے ظلم سہنے والا ایک برابر ھیں.اللہ پاک پاکستان اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

نوٹ: ادارے کا کسی بھی کالم نگار کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ یہ لکھنے والی کی زاتی رائے ہے۔

پاکستان زندہ آباد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *